نئی دہلی، 24؍جولائی(ایس اونیوز/آئی این ایس انڈیا )ہندوستانی حج کمیٹی کو وزارت خارجہ سے ہٹا کر اقلیتی امور کی وزارت کے تحت لانے کے مطالبے اور قیاس آرائیوں کے تناظر میں نئی کمیٹی کے زیادہ تر رکن حج سے متعلق اس اعلی ترین ادارے کے موجودہ نظام کو برقرار رکھنے کے حق میں ہیں کیونکہ ان کے مطابق یہی حجاج کرام کے مفاد میں ہے۔دراصل، یو پی اے حکومت میں سلمان خورشید کے اقلیتی امور کے وزیر رہنے کے دوران ان کی جانب سے یہ تجویز لائی گئی تھی کہ حج کمیٹی کو وزارت خارجہ سے الگ کرکے اقلیتی امور کی وزارت کے تحت لایا جائے، تاہم بعد میں وہ خود وزیر خارجہ بن گئے اور اس تجویز پر کوئی عمل نہیں ہو پایا۔اس کے بعد کے رحمان خان نے بھی اسی طرح کامطالبہ پیش کیا تھا ۔اب ایک بار پھر ایسی قیاس آرائیاں ہیں کہ موجودہ حکومت حج کمیٹی کو اقلیتی امور کی وزارت کے تحت لانے پر غور کر سکتی ہے، تاہم حکومت کی جانب سے ایسی کوئی تجویز یا بیان سامنے نہیں آیا ہے۔حج کمیٹی اور مسلم کمیونٹی کا ایک گروپ اس کامطالبہ کر رہا ہے ۔حج کمیٹی کے نائب صدر اور ترنمول کانگریس کے ایم پی سلطان احمد نے آج میڈیا سے کہاکہ اس طرح کی بات پھر سے سامنے آ رہی ہے کہ حج کمیٹی کو اقلیتی امور کی وزارت کے تحت لایا جائے گا۔کمیٹی کے زیادہ تر ممبران کا خیال ہے کہ حج کمیٹی آف انڈیا کو وزارت خارجہ کے تحت ہی رہنا چاہیے کیونکہ یہی حجاج کرام کے مفاد میں ہے۔' گزشتہ دنوں ممبئی میں نئی حج کمیٹی کی پہلی میٹنگ ہوئی جس میں یہ مسئلہ زور شور سے اٹھایا گیا ۔
سلطان احمد نے کہاکہ کمیٹی کے زیادہ تر ممبران کا خیال ہے کہ اقلیتی امور کی وزارت طاقتور وزارت نہیں ہے اور ایسے میں اس کے تحت کام کرنے میں صورت حال اتنی آسان نہیں رہے گی جتنی موجودہ وقت میں ہے۔وزارت خارجہ کے تحت کام کرنے میں بہت آسانی ہے اورحجاج کرام کو بھی پوری سہولت ہوتی ہے۔قابل ذکرہے کہ حال ہی میں نئی حج کمیٹی کی تشکیل نو ہوئی تھی جس میں لوک جن شکتی پارٹی کے ایم پی محبوب علی قیصر صدر اور ترنمول کانگریس کے لیڈر سلطان احمد نائب صدر منتخب ہوئے تھے ۔حج کمیٹی وزارت خارجہ کے تحت کام کرتی ہے اور حج کو لے کر پورے انتظامات اسی کے ماتحت ہوتے ہیں ۔ہندو ستان سے ہر سال اوسطا ڈیڑھ لاکھ لوگ حج کے لیے جاتے ہیں۔ویسے، بہت سے لوگوں کا یہ بھی خیال ہے کہ حج کمیٹی کو اقلیتی امور کی وزارت کے تحت لانا اس ادارے اور حج مسافروں کے مفاد میں رہے گا۔حج کمیٹی کے سابق رکن محمد شاکر انصاری نے کہاکہ دیکھئے، وزارت خارجہ کے پاس دوسرے کئی اہم کام ہوتے ہیں اور ایسے میں حج کے انتظامات کو شاید وہ توجہ نہیں مل پاتی ہے جکو اقلیتی امور کی وزارت کے تحت مل سکے گی۔ہم چاہتے ہیں کہ حج کمیٹی کو اقلیتی امور کی وزارت کے تحت لایا جائے جس سے بہت ساری اصلاحات بھی ہو سکیں گی ۔